گنگناتے پل #١
حسین انجام
موسم سرما کی گنگناتی ہوئی شام تھی ،ارمان
گھنے درختوں پر پرندوں کے سریلے گیتوں سے بہت محظوظ ہورہا تھا،اسے
اپنے آس پاس کے سناٹے کا کوئی حوش نہیں تھا وہ تو بڑھے انہماک سے لکھنے
میں مشغول تھا جیسے پرندوں کی زبان کا ترجمہ کررہا ہودھنک
بےگناہ پتوں کو کچلتے ہوئے ارمان کے سر پر آ کھڑی ہوئی تھی مگر ارمان
نے اسے دیکھنا تک گنوارہ نہیں کیا تھا.دھنک نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پیر پٹخ
کر کہا-"تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ میرے آنےسے بھی تمہیں کوئی فرق
نہیں پڑھتا "-
" آج بھی لڑھ کر آئی ہو کیا گھر سے؟"-ارمان نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
"کہاں کی ہانک رہے ہو"
"بجا فرمایا اب فقط ہانکتا ہی ہوں "
"فلسفہ شروع مت کر دینا اب"
"
کچھ شروع
توہوآخر.. فلسفہ ہی سہی”
یہ جو تمہارا انداز گفتگو ہوگیا ہےنہ اس سےاب
چڑھ ہوگیئ ہے مجھے"
"انداز ہی تو ہے بدل بھی سکتا ہے"-ارمان نے شرارت آمیز لہجے میں کہا
"میں کہہ
رہی ہوں باز آجاو ورنہ بہت بری طرح پیش آونگی -"دھنک نے مٹھیاں بھینچ
کر کہا
"اوف فو تم تو بہت جلدی گلابی ہوجاتی ہو ....ویسے
اچھی لگتی ہو اس رنگ اس ادا میں بھی"-
ہاں تو سیدھی طرح بات کیا کرو مجھ سے....ہر وقت ارسطو
بنے رہنا اچھا نہیں لگتا...اور براے مہربانی میری تعریف نہ ہی کرو تو بہتر
ہے"-دھنک اوپری ہونٹ کانٹتےہوے بولی
"میں سچ کہہ رہا ہوں آج تمہارے گال ایسے ہی
چمک رہے ہیں جیسے انڈے میں زردی "-ارمان نے سنجیدگی سے کہا
"دیکھا...تم تعریف کم کرتے ہو دل زیادہ جلاتے
ہو"
"لو اب اس میں کیا قباحت ہے "
"
کوئی
قباحت نہیں حضور ...بس اتنا فرما دیجیے کے انڈا دیسی ہے یا فارمی” دھنک نے منہ بنا
کر کہا
"
سرد موسم
میں تو دیسی ہی معقول رہیگا "-ارمان نے کہا ہی تھا کہ دھنک نے اپنی
سینڈل کھینچ کر ماری اور ارمان کی چینخ فزا میں گونجی اور ساتھ ہی ڈالی پر سے
پرندے پھڑ ، پھڑھاتے اڑ گئے-
"اب کی بار منہ پر مارونگی
... سمجھے"-دھنک نے فیصلہ کن انداز میں کہا
"جی بہت بہتر.... "-ارمان نے درد کی بہترین
اداکاری کرتے ہوے کہا
"زیادہ درد ہورہا ہے "-دھنک نے پریشانی
سے پوچھا
"نہیں.."-ارمان نے کسی نک چڑھی عورت کی طرح
کہا اور منہ پھیر لیا
مجھے معاف کردو ...دیکھو تم مجھے ستایا نہیں کرو
پھر مجھے غصّہ آجاتا ہے اور پھر یہ سب ہوجاتا ہے"-دھنک نے ارمان کا
ہاتھ تھام کر کہا
"کوئی بات نہیں"-ارمان نے تیور قائم
رکھے
"اچھا ادھر دیکھو میری طرف ...میں تمسے بیحد محبّت
کرتی ہوں جبھی تو اس ویران جگہ بھی تم سے ملنے آجاتی ہوں ..دنیا کی بھی پروا نہیں
کرتی اور تم الٹی سیدھی باتیں کرکے مجھے تنگ کرتے ہو تو بہت غصّہ آتا ہے مجھے…
میں بھی چاہتی ہوں کہ تم ہماری باتیں کرو کم سے کم اپنے اندر صرف ہمارے لئے
سنجیدگی پیدا کرو ".-
"یہ جگہ ویران نہیں ہے ...سارے پرندے تم نے
اڑا دِیے..اور جہاں تک سوال ہے ہماری باتوں کا تو مجھے صرف یہی باتیں آتی ہیں "-ارمان نے سختی سے کہا
"تو کونسی آباد جگہ ہے یہ ... عجیب قسم کے پرانے
بڈھے درخت،سوکھے ہوے پتے ،مری ہوئی گھانس بس ایک الو کی کمی تھی وہ تم ہو
"-دھنک نے ہاتھ جھٹک کر کہا
"بہت بدذوق ہو تم "-
"ہاں سارا ذوق و شوق تو تمہارے اندر سما گیا ہے
نا "
"ترستی ہے دنیا اس ماحول اس سکون کو پانے کے لئے
"
"کون الو کا پھٹا ترستا ہے آخر اس پھٹے
کا نام بتا دو"-دھنک نے اونچی آواز میں
کہا
"غصّہ حرام ہے"
"چلو جی اب تبلیغ شروع ہوگیئ "
"ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا دھنک "
"تم ایسے ہی سوال کرتے ہو کہ جواب نہیں دوں
تو مجھے چین نہیں آتا "
"تمہیں کسی صورت چین آتا بھی یا نہیں"
"تمہارے ہوتے ہوے تو یہ ناممکن ہے "-دھنک نے
ہونٹ بھینچ کر کہا
"اف... سوچتا ہوں اگر تمہارا یہ غصّہ نہ ہو، اتنی
بیقراری نہ ہو تو زندگی گزارنا بہت مشکل ہوجاےگا ...اسی غصّے اور بیقراری سے تو دل
لگا ہوا ہے دنیا میں "-ارمان نے سنجیدگی سے کہا
"اور میری آنکھیں"-دھنک نے ایسے پوچھا جیسے
بہت دیر سے چاہت کی ہی باتیں ہورہی ہوں
"زمانہ دیکھا مگر ایسی آنکھیں نہیں دیکھیں
"-ارمان نے دھنک کی ہرنی جیسی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
"سچ کہہ رہے ہو نا ؟"
"فلحال تو صرف کہہ رہا ہوں اس احساس کو کسی مقصوص سانچے میں منتقل
کرنا میرا ظرف نہیں"-
"یا خدا ...تم اتنے زیادہ خالص کیوں ہو لڑکے
کم عمر رسیدہ بڈھے زیادہ لگتے ہو...."-
"اب کیا ہوا "-
"اتنی مشکل زبان میں تم بات کرتے ہو جیسے معاشیات
کا استاد طلب اور رسد بیان کر رہا ہو "-
"دیکھا جایے تو سچ اور جھوٹ بھی طلب اور رسد کے
مانند ہیں "-ارمان نے کہا ہی تھا کہ دھنک ہاتھ
جوڑ کر بولی
..."خدارا اب کوئی نیا فلسفہ شروع نہیں کرنا تھک
گیئں ہوں میں "-
"او..میں آپکی کیا خدمات کر سکتا ہوں
؟-ارمان نے تعزیمن جھک کر کہا
"اس بڈھے درخت میں سے ایک سوفٹ ڈرنک لادو مجے
"-دھنک تنک کر بولی
"شہتوت کھاؤگی ؟"-ارمان نے پرجوش انداز
میں پیش کش کی
"دماغ تو نہیں چل گیا تمہارا ....چلو بہت دیر ہوگیئ
اب گھر جاؤنگی میں "-
"روکو نہ کچھ دیر اور ذرا ابھی تو آسمان پر نارنگی
رنگ بھی نہیں آیا "...
"اففف.."-دھنک نے اپنا سر تھام
لیا
"یہ تمہارے لیے "-ارمان نے سرخ گلاب دیتے ہوے
کہا
"اتنا دماغ چاٹنے کے بعد تم یہ دس روپے کا پھول دیکر
سب برابر کرلوگے "
"کس زمانے میں جی رہی ہو دس روپے کا دور گیا بیس
روپے کا دیا ہے بدبخت نے وہ بھی بہت لڑنے کے بعد"
"ارمان تم پاگل ہوگے کیا بیس روپے کی بھی کوئی
اوقات نہیں ہے آج کل ...میرے کہنے کا مطلب تھا کوئی قیمتی تحفہ نہیں دے سکتے تھے
تم ....خیر شکریہ
"ارے نہیں..شکریہ کی کیا بات ہے سب چلتا ہے
"-ارمان نے شرارتن کہا
"تم میرے طنز پہ دھان نہیں دیتے
صرف اپنے مطلب کے لفظوں کا جواب دیتے ہو..بہت چالاک ہو تم "
""بیحد محبّت کرتا ہوں تمسے اسلیے تمہارے ہر
عیب کو نظر انداز کر دیتا ہوں"-ارمان نے
میٹھی نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا
"جہنم میں جائے ایسی محبت "-دھنک نے بگڑ کر
کہا
"خیر اب چلو .."
"نہیں..نہیں..ذرا روکو ..اپنی تحریر تو دکھاؤ کہ
کیا تیر مارا ہے سارا دن بیٹھ کر "
"ارے کچھ نہیں وہ ذرا یونہی ...."ارمان نے
کاغذ چھپانے کی کوشش کی مگر دھنک نے جھٹ سے
چھین لئے اور با آواز بلند پڑھنے لگی ....."موسم سرما کی گنگناتی
ہوئی شام تھی.....اف ...کیا بےتکا لکھا ہے کسی سستے مصنف کی جیسے مجھے
تم سے یہ امید نہیں تھی "....دھنک نے اسکے
ساتھ ہی سارے کاغذوں کے پرزے پرزے کردیے ارمان درخت سے ٹیک لگایے مسکراے جا رہا
تھا ....دھنک نے غصّے بھری نگاہوں سے دیکھا اور ارمان سے تیز آواز میں
پوچھا.مینے تمہاری ساری محنت پر پانی پھیر دیا اور تم مسکرا رہے ہو ..غصّہ کرو نا
مجھ پر،ڈانٹو
نہ مجھے مسکرا کیوں رہے ہو ....پاگل ہوگے ہو کیا ؟"-
"میری اس تحریر کا اتنا حسین انجام ہوبھی نہیں سکتا
تھا ...مجھے خوشی ہے کہ یہ تحریر تمہارے خوبصورت ہاتھوں اور قیمتی غصے کی
بدولت اپنی اصل منزل پر پہنچ گیئ..."ارمان نے بہت پیار بھرے لہجے میں کہا اور
دھنک کے رخساروں پر آنسوں امڈ آے...دھنک ہچکیوں سے روتے ہوے کاغذ کے پرزے چن رہی
تھی اور ارمان اسکے آنسوں پونچھ
رہا
تھا…..افق پر نارنگی رنگ گہرا ہو چلا
تھا-..
مصنف ………….سید
فیضان حسن
.
No comments:
Post a Comment