گنگناتے
پل #٢
نیلا چاند
دھنک کے آجانے سے بھی ویرانے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی.وہی خاموش خاموش فضا ،وہی سناٹے میں گونجتی ہوئی ویرانوں کے پرندوں کی آوازیں ، وہی وحشت زدہ ماحول مگر ایک عجیب سا سکوں کہیں نہ کہیں تھا ضرور جسے بیان کرنا کم سے کم دھنک کے بس کی بات نہیں تھی اور اس وحشت زدہ سکونیت کا بصیر بے خبر سو رہا تھا. دھنک ایک ٹک ارمان کو دیکھتی رہی پھر شاید اسے جگانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی اسکے سرہانے بیٹھ گیئی تھی. جبکے دو دن سے ارمان سے ناراض تھی اور شدید غصّے میں تھی اور اس اختلاف کی وجہ ارمان کا غیر سنجیدہ رویہ اور ہر وقت لاپرواہی میں غلط جملے کہنا اور اسپے نا تو نادم ہونا اور نا ہی معذرت طلب کرنا پھر منانے سے بھی قاصر رہنا حتکہ دھنک رو رو کے حالت تباہ کرلے.
وہ
ارمان کے بالوں کو نہ چاہتے ہوے بھی سہلانے لگی
، یونہی غیر ارادی طورسے اسنے ارمان کے پرچوں پر نگاہ ڈالی اور زبردستی
اپنی ہرنی آنکھوں سے پڑھنے میں مشغول ہوگئی .
"
تم ہمارے مہمان ہو تمیں یہاں کام ہرگز نہیں کرنا چاہیے" .. شہزادی نے یمنی
باشندہ سے کہا جو بڑے انہماک سے گھوڑے کی صفائی میں مصروف تھا
"یہ
بات آپ کا گھوڑا نہیں جانتا شہزادی، ویسے آپ عربی اچھی بولتی ہیں" ..... یمنی باشندے نے مسکراہ کر کہا
"میں
کئی زبانیں جانتی ہوں" – شہزادی نے جواب دیا
"میں
بھی آپ سے مختلف زبانیں سیکھنا چاہونگا " --- یمنی باشندے نے خوشی سے کہا
"
بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ دل چسپ بھی ہو تم "..
"کیا
آپ جب بھی ہمیں مخاطب کرینگی ہماری بہادری کے قصیدے پڑھیں گیں – جبکے ہمنے ایسا
کچھ بھی نہیں کیا جس پر آپ کو بار بار ہمارا احسانمند ہونا پڑے"- یمنی باشندے
نے دھیرے سے کہا
"
نہیں اچھے انسان تم نے جس بہادری سے ان آٹھ شہ سواروں کا خاتمہ کیا ہے وہ نہ صرف
ہمارے بلکہ دو قبیلوں کے درمیان پسنے والے انسانوں پر
احسان ہے " – شہزادی کی آواز میں درد تھا
"
وہ کیسے ؟ " - یمنی باشندے نے حیرت
سے پوچھا
"
یہ تو تم جان ہی گئے ہو کے ہمارا تعلق قبیلے بہرام سے ہے اور جنکا تمنے قلعہ قمع
کیا وہ المغاں قبیلے کے سپاہی تھے جو ہمیں لے جا کر اپنے آقا کے سامنے ڈال دیتے
اور جب ہماری قید کی خبر ہمارے والد کو ہوتی تو دونوں قبیلوں میں تھمی ہوئی جنگ ایک بار پھر شروع
ہوجاتی اوردونوں حکم ران اپنی جھوٹی عزت و ان کی خاطر لاکھوں بے گناہوں کا قتلے
عام کرتے "- شہزادی نے تفصیل بیان کی
"
لیکن یہاں کے لوگ ظلم کے خلاف آواز کیوں
نہیں اٹھاتے " ...
"
جوظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے قید خانوں میں ڈال کر طرح طرح کی اذیتوں دی
جاتیں ہیں .. جو یہ اذیت سہتے ہیں انکی چیخیں اتنی کربناک ہوتیں ہیں کہ سننے والوں
کا دل دھل جاتا ہے " .. شہزادی افسردگی سے بولی
"
کیا ان سننے والوں میں آپ بھی شامل ہیں " .. یمنی باشندے نے جلدی سے پوچھا اور
شہزادی گھور کر رہ گیی
" خیر . تم اپنی سناؤ اتنی اچھی تیر اندازی
تمنے کہاں سے سیکھی.. اور یمن سے یہاں کیوں آے ؟ " - شہزادی نے تجسس ظاہر کیا
" ہمیں بچپن سے ہی تیر اندازی، نیزا بازی
اور تلوار بازی جیسے کھیل سکھاے جاتے ہیں ..مجھے
بچپن سے ہی سیاحت کے خوابوں نے دیوانہ بنا
رکھا ہے .. اسی خواب نے مغرب دنیا کی تلاش میں نکل چلا اور کئی عرصے مصر میں رہا
پھر وہاں سے کسی طرح مراکش آیا اور ایک
جہازمیں کام کر لیا جب میرے پاس سفر جاری رکھنے کے لئے کچھ اشرفیاں جمع ہوگیئں تو
میں اسی جہاز پر سوار ہوگیا اور اندلس کے ساحل پر اتر گیا اور کئی دن کی گھڑھ
سواری کے بعد آپ سے ملا " .... یمنی باشندے نے اپنی داستان مختصر بیان کی
"
یہ مغرب کی سرحد ہے اوراس دنیا میں ظلم کے علاوہ اور کچھ نہیں اچھے انسان لوٹ جاؤ
اپنے وطن " ... شہزادی نے مشورہ دیا
" لوٹ کر جانا اتنا آسان نہیں شہزادی کچھ
عرصے اس خوبصورت وادی میں رہنا چاہتا ہوں یہ جگائیں خوابوں میں دیکھتا تھا .. اونچنے اونچنے سبزے سے ڈھکے پہاڑ
، دودھ جیسی نہریں ، سنہری دھوپ جیسے سونا پگھلا کر جگا جگا رنگ دیا ہو ، بادلوں
سے باتیں کرتے درخت شاید یہی میری دنیا ہے جسے میں ڈھونتے ہوے آیا ہوں ، ان ہواؤں سے بہت گہرا تعلق
معلوم ہوتا ہے مجھے ، ایسا لگتا ہے کے مجھے یہیں آنا تھا مجھے آپکی سر زمین سے
محبت ہو چلی ہے شہزادی " ... یمنی
باشندے نے کہا
"
محبت ...! یہاں دودھ کی نہیں خون کی نہریں بہتی ہیں ، یہ پہاڑ شاید اسلئے درختوں سے ڈھکے ہوے
ہیں کہ ظلم و ستم کی کالی تصویر دنیا کو دکھائی نہ دے ، یہ ہوائیں صرف لہو سے
مہکتی ہیں اور سنہری دھوپ بےضرر غلاموں کی لاشیں سکھاتی ہے ... یہ تمہاری دنیا نہیں یمنی
باشندے یہ درندوں کی بستی ہے جہاں صرف درندے راج کرتے ہیں اور معصوم انسانوں کی
ہڈیاں تک چبا لیتے ہیں " .... شہزادی
کی آنکھیں بھیگ چکیں تھیں اور پھر وہ نہیں رکی تھی اور یمنی باشندہ اصطبل میں ہکا بکا کھڑا تھا-
شہزادی کئی راتوں سے یمنی باشندے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کتنا لاپرواہ انسان
ہے دنیا کے ہر غم سے بےخبر مستقبل تو دور اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا وہ روزانہ
اپنی کھڑکی سے اسے کام کرتا دیکھا کرتی ہے شکل سے معصوم نظرآتا ہے مگر آواز میں
شہزادوں جیسا روعب ہے – کچھ دن قبل جب وہ
اسے بچا کرلایا تھا تو میرے باپ نے اسکی
بہادری سے خوش ہوکر مہمان بنا لیا تھا اور خود غرناطہ کے محاذ پر چلا گیا تھا –
لیکن میرے باپ کی واپسی پر بھی یہاں ملا تو وہ اسے اپنا غلام بنا دیگا جسکی ضمانت
ہزاروں قید خانوں کے مسافر ہیں- یہ بیچارہ تو مسافر ہے ، سیاہ ہے اور یہاں کے ظلم
و ستم سے انجان بھی اگر اسنے احسان کیا ہے
تو اسکے عوض اسے غلامی نہیں ملنی چاہیے .. مجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا کیونکے میرا
باپ بہت ظالم ہے اگر اسنے لوٹنے سے قبل ہی
اسے یہاں سے روانہ نہیں کیا تو وہ کبھی اس غلامی سے آزاد نہیں ہو پائیگا . وہ رات بھر منصوبے مرتب کرتی رہی اور صوبہ ہوتے ہی اسکے ساتھ سیر کو نکل گئی تھی-
دونوں
گھوڑے ایک ساتھ چل رہے تھے – افق پہ گہرے
بادل چھاے ہوے تھے ہلکی ہلکی پھوار سے تناور اور گھنے درختوں کےساۓ دلفریب سما باندھ
رہے تھے ..
"
ہم رات بھر تمہارے بارے میں سوچ رہے تھے "
... شہزادی نے کہا اور یمنی باشندہ چونک کے شہزادی کو دیکھنے لگا
"
کیا تم سچ میں یہاں بسنے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ " - شہزادی نے کچھ دیر بعد پوچھا
"
جی ہاں شہزادی یہ موسم یہ منظر میرے پیروں میں زنجیر بن گئے ہیں " ... یمنی باشندے نے مسکراہ کے کہا
"
لیکن کیوں اپنی زندگی یہاں برباد کرنا چاہتے ہو ؟ " - شہزادی نے ٹوکا
"
میں تو بس دل کی تمنا کو آباد کرنا چاہتا ہوں شہزادی " ... یمنی باشندے نے
کہا اور شہزادی کے ماتھے کی لکیریں گہری
ہوگیئں
"
تم دیوانے معلوم ہوتے ہو " .. شہزادی کچھ دیر بعد بولی
"
میں کل ہی تسلیم کرچکا ہوں شہزادی " .. یمنی باشندے نے چاروں طرف دیکھتے ہوے
کہا
"
تم سمجھتے کیوں نہیں" ... شہزادی کا
لہجہ سخت تھا
"
اگر دیوانے سمجھنے اور سننے لگیں تو دیوانے ہی کیوں کہلایئں " -
"
تمہاری ایک غلط فہمی تمیں قید خانوں میں پہنچا دیگی " ... شہزادی نے تنبیہ
کیا
"
میں آزاد ضرور ہوں مگر میری روح صدیوں سے ان سبز پہاڑوں کی قیدی ہے " ...
یمنی باشندے نے نرمی سے کہا
"
اچھے جملے ادا کرنے سے تم پر رحم نہیں کیا جائیگا " --- شہزادی نے نچلا ہونٹ
کاٹتے ہوے کہا
"
آپ مجھ سے ہمدردی ظاہر کر رہیں ہیں ؟ یا ڈرا رہیں ہیں اور پھر آپ بھی تو یہاں رہتی
ہیں ؟ " - یمنی باشندے نے گھوڑے کی
بھاگیں ڈھیلی کرتے ہوے کہا
"
میں تو ایک پتھر کے پھول کے مانند ہوں جو بلا وجہ ان چٹانوں میں اگا ہوا ہے لیکن تم نے مجھ پر احسان کیا ہے اسلئے تمیں آنے والے
خطرے سے آگاہ کرہی ہوں .. میرے باپ بےرحم ہے
تمہارا احسان بھی یاد نہیں رکھے گا اور
بنا اجرت کے تم سے کام کروائگا اور انکار
کی صورت میں سزا دیگا اسلئے کہتی ہوں جتنی
جلدی ممکن ہو یہاں سے چلے جاؤ اسکے لوٹنے سے قبل. اچھے غلام میرے باپ کی کمزوری ہیں اور تم نے آٹھ سپاہیوں کو تنہا مارا
ہے " ... شہزادی کا لہجہ خشک تھا
"
مگر سردار ضرغام بھلا معلوم ہوتا ہے " ... یمنی باشندے نے سوچتے ہوۓ کہا
"
بھلا ... جو انسان اپنے ہی بیٹے کو ناکامی کی صورت میں زندہ درگور کردے اسے کسی
بھلائی کی امید مت رکھو" .. شہزادی نے زہریلے لہجے میں کہا
"
کچھ بھی ہو مگر مرنے کے لئے اس سے حسین زمین مجھے نہیں ملیگی " .. یمنی
باشندے نے خفیف سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا
"
افف ... تم ہماری عزت نہیں کرتے کیا ؟ " - شہزادی نے زور دیکر پوچھا
"
کیا آٹھ سپاہیوں کی موت اسکی ضمانت نہیں ؟ " ...یمنی باشندے نے جلدی سے کہا
"
تو پھر ہماری التجہ ہے کے چلے جاؤ اس زمین سے " ... شہزادی نے گھگیائی اور یمنی باشندے نے اپنے گھوڑے کی بھاگیں سخت کی
اور گھوڑا رک گیا ساتھ ہی شہزادی نے بھی اپنا گھوڑا رک لیا یمنی باشندہ شہزادی سے
کچھ کہتے کہتے رک گیا ." کچھ کہنا چاہتے ہو ؟ "- شہزادی نے نرمی سے
پوچھا
"
نہیں .. کل میں آپکے محل سے روانہ ہوجاؤنگا " ... یمنی باشندے مختصر کہا اور
شہزادی کو ایسا لگا جیسے بہت بڑھا بوجھ ہلکا ہوگیا ہو پھر یہ سیر ختم ہوئی تھی اور
دونوں کے پیاسے گھوڑے محل میں داخل ہورہے
تھے-
شہزادی
نے کھڑکی کھولی تو سنہری دھوپ اسکے کمرے میں پگھلنے لگی تھی حسب معمول شہزادی نے
اصطبل کی طرف دیکھا اور یمنی باشندے کو
نظروں میں نہ پاکر اسکو ایک عجیب سی بیچینی ہوئی تھی ..اسنے کنیز کو بلا کر پوچھا
کے یمنی باشندہ کہیں دکھائی نہیں دیتا .. اور کنیز نے بتایا تھا کے وہ رخصت ہوگیا
ہے ... کنیز کا جواب پاکر شہزادی کی دھڑکنیں تیز ہوگیئں تھیں ، ہونٹ کانپ کر رہ
گئے تھے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے کیا
کرے .
کل تک اسکو اس محل سے رخصت کرنے کے لئے اصرار کرہی تھی اور جبکے آج وہ چلا
گیا تو یہ بے چینی کیسی ہے .کیا رشتہ تھا اسے؟ کچھ بھی نہیں ، کون تھا کہاں سے آیا
تھا ، کیا چاہتا تھا نہیں معلوم مگر اتنا تھا کے وہ تھا سب سے الگ وہی بولتا تھا
جو میں سوچا کرتی تھی ، وہی تھا جو غلامی سے نہیں ڈرتا تھا ایک اچھا محافظ ایک
اچھا انسان ارادے مضبوط تھے اور دل نرم .. یا خدا یہ میں نے کیا کردیا میری برسوں کی
فریاد جب پوری ہوئی تو میں نے اسے منہ پھیر لیا وہی تھا جو میرے خیالوں کی ترجمانی
کررہا تھا ، جو مجھے اس ظلم کی زمین سے نکل لیجاتا .. بیتابی نے شہزادی کو کچھ
سمجھنے کا موقعہ نہیں دیا نظریں بچاتی ہوئی محل کے عقبی راستے سے اپنے گھوڑے پر
سوار ہوئی اور ایڑھ لگا دی ..
کافی دیر تک شہزادی تلاش کرتی رہی مگر یمنی
باشندہ پھر نہیں دکھا وہ ناکام محل میں پہنچی .. اپنی آرام گاہ میں بیٹھی دیر تک
روتی رہی.. پھر اپنی آرام گاہ کی اسی کھڑکی پر آ کھڑی ہوئی جہاں سے روزانہ اسکو
کام کاج کرتے دیکھا کرتی تھی .. آنکھیں نم تھیں سورج ڈوبنے والا تھا کے اچانک محل
کے صدر دروازے پر وہی یمنی باشندہ اپنا گھوڑا لئے نمودار ہوا شہزادی کو ایسا لگا
جیسے دوسری زندگی مل گئی ہو وہ بے اختیار دوڑھتے ہوے اصطبل میں گئی اور یمنی
باشندے کو اپنی خوابناک آنکھوں سے گھورتی رہی جس میں آنسوں تیر رہے تھے .. یمنی
باشندے نے شہزادی کو دیکھ کر ادبی سلام کیا
"
تم کہا چلے گئے تھے ؟ "... شہزادی نے روہانسی آواز میں پوچھا
"
میں بازار گیا تھا زین بدلنے اور میرا سامان بھی چڑھائی پر چھپایا ہوا تھا وہ لینے
بس ابھی روانہ ہوجاؤنگا آپ پریشان نہ ہوں " ... یمنی باشندہ نے جواب دیا
"
تم کہیں نہیں جاؤگے بلکہ آج " ... شہزادی نے کہا اور یمنی باشندہ تجسس
اور حیرت کے ملے جلے اثرات کے ساتھ شہزادی کو دیکھتا رہا
"
تم آج رات مجھ سے ملنا مجھے تمسے کچھ کہنا ہے مگر محل کے عقبی حصہ میں جہاں چھوٹا
سا باغ ہے وہاں اور یہ میری التجا نہیں
ایک شہزادی کی پکار ہے " .. شہزادی
نے کہاں اور یمنی باشندے نے سر کو خفیف سی جمبش دی اور شہزادی رخصت ہوگئی -
مطلع
صاف تھا نیلی چاندنی سے باغ کا کونا کونا جگمگا رہا تھا ہر طرف چمبیلی کے پھول
ایسے چمک رہے تھے جیسے موتی- شہزادی بیلوں کے درمیاں لگے جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی اور اسکا حسن بےپناہ
نکھر رہا تھا اور یمنی باشندہ پاس ہی کھڑا
تھا –
"
بہت خوبصورت رات ہے – پتا ہے سالہا سال میں نظر آتا ہے یہ نیلا چا ند " –
یمنی باشندے نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا
"
سچ کہہ رہے ہو؟ "- شہزادی نے دلچسپی سے پوچھا "
"
جی ہاں شہزادی پچھلی بار کئی سال قبل اس چاند کو مصر میں دیکھا تھا "- یمنی
باشندے نے کہا
"
کیا جب بھی یہ نظر آتا ہے وہ ایک محبت بھری رات ہوتی ہے " – شہزادی کی مسکرہٹ
میں شرم کا انصر تھا
"
شاید .. مگر وہ ایک اچھی رات نہیں تھی ہمارا جہاز طوفان میں پھنس گیا تھا کسی کو
بھی یقین نہیں تھا کہ دوبارہ خشکی دیکھ پاۓ گا مگر زندگی اگر باقی ہو تو کوئی
طوفان بھی نہیں چھین سکتا " .. یمنی باشندے نے کہا
" مگر یہ ایک اچھی رات ہے اور میں خود میں
تمہارے لئے جذبہ انس محسوس کرنے لگی ہوں " – کیا تم میرا ساتھ دوگے ؟ -
شہزادی نے حسرت سے پوچھا
" میں خوابوں میں یہ حسین وادیاں دیکھا
کرتا تھا اور ان وادیوں میں ایک شہزادی بھی تھی جسکی جیتی جاگتی تصویر آپ ہیں –
فقط آپ ہی کے لئے میں محل تک آیا اور سردار ضرغام کی مہمان نوازی بھی آپ ہی کے لئے
قبول کی- جس جذبے سے آپ آج آشنا ہوئی ہیں اس جذبے کے طفیل میں نے یہ تصویر بنائی ہے " -
یمنی
باشندے نے کہا اور ایک تصویر شہزادی کو پیش کی جسکا منظر ایک کھڑکی میں بیٹھی ہوئی
شہزادی تھی – شہزدی کے آنکھوں میں آنسوں تھے – ہمیں اپنے سفر میں شامل کرلو اے
یمنی شہزادے سفر حیات میں شامل کرلو ہمیں
لے جاؤ اس جھوٹی شان کے محل سے – شہزادی کسی ننے بچے کی طرح روتے ہوۓ بولی
"
میرا کوئی ٹھکانہ نہیں شہزادی میرے ساتھ آپ بھی در بدر کی ٹھوکریں کھائیںگی "
–
"
ہمیں نہیں پتا اگر تم ہمارے بغیر چلے گئے تو ہم تمہاری یاد میں مرجایئنگے " –
شہزادی بیقراری سے بولی
" شہزادی " – یمنی باشندے نے کچھ کہنا
چاہا مگر شہزادی نے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ
دئیے اور دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے کہ اچانک دور سے گھوڑوں کی
ٹاپوں کی آوازیں آنے لگیں شہزادی نے کہا شاید میرا باپ واپس آرہا ہے چلو ہم ایک
سورنگ کا راستہ جانتے ہیں جسکا سرا نہر پہ نکلتا ہے – شہزادی نے کہا اور یمنی
باشندے کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے چلنے لگی
کچھ ہی دیر دونوں ایک کشادہ سورنگ میں چل رہے تھے –
کچھ
ہی دیر میں دونوں نہر کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ لئے چل رہے تھے شہزادی کی خوشی
ایسی تھی جیسے کسی ننی بچی کو اسکی من پسند گڑیا مل گئی ہو وہ بے انتہا خوش تھی
اور یمنی باشندہ اپنے خوابوں کی تعبیر سچ ہونے پر حیرت زدہ تھا اور ایک ناممکن سی
خوشی محسوس کررہا تھا – " ہم جائیںگے کہاں " – شہزادی اٹھلائی
"جہاں
میری شہزادی کو مجھ سے کوئی جدا نہ کرسکے " – یمنی باشندے نے مسکراتے ہوے کہا
"
اور جہاں میرے شہزادے کو ہر رات نیلا چند نظر آے " – شہزادی نے شرارت آمیز
لہجے میں کہا
"
جہاں زندگی کا ہر لمحہ پھولوں سے مہکتا ہو " .. یمنی باشندے نے کہا
"
جہاں آزادی ہو کوئی بھی کسی کا قیدی نہ ہو " ... شہزادی نے پرجوش لہجے میں
بولی
"
جہاں صرف محبت کی حکمرانی ہو اور اچھائی کا قانون ہو " ...
"
جہاں زندگی ہر غم سے بےنیاز " - ہو شہزادی نے کہا اور ساتھ ہی پوری قوت سے چینخی کیونکے سامنے
سردار ضرغام اپنے سپاہیوں کی فوج لئے قہر آلود نظروں سے گھور رہا تھا . اسسے قبل
شہزادی کچھ کہتی سردار ضرغام کے سپاہیوں نے یمنی باشندے کو گھیر لیا شہزادی سامنے
آگئی اور پھر سردار ضرغام کی غراہٹ سنائی دی " زندگی کبھی غم سے بےنیاز نہیں
ہوسکتی " -
"
کیونکے تم جیسے ظالم حکمران اس زمین پر جو پیدا ہوتے رہینگے " – شہزادی نے
نفرت سے کہا
"
چپ کرو بے حیا ' میری غیر موجودگی میں ایک مشرقی جاسوس کے ساتھ بھاگ رہی تھی اسکی
سزا تجھے ملیگی " – سردار ضرغام نے سختی سے کہا
"
یہ مشرقی جاسوس نہیں ہے یہ ایک اچھا انسان ہے جو دنیا میں محبت بانٹنے آیا ہے " – شہزادی نے غصے سے کہا
"
محبت ...! " - سردار ضرغام کی ہنسی میں شیطانیت تھی
"
سردار ضرغام میں تمہارا مجرم ہوں اور میرا جرم صرف یہ ہے کے میں نے شہزادی سے محبت
کی ہے اس میں اسکا کوئی قصور نہیں وہ بے گناہ ہے معصوم ہے "... یمنی باشندے
نے بلا کسی خوف کے کہا
"
بس ...! سردار ضرغام نے ہاتھ اٹھا کر کہا ... تو نے ضرغام کی بیٹی سے محبت کرکے میری
مہمان نوازی کو گالی دی ہے تجھے وہ موت
مارونگا کہ یہ نیلا چاند برسوں میں بھی نکلتے ہوے ڈریگا "- اسکے ساتھ ہی
تیروں کے بارش میں یمنی باشندے کا سینہ چھلنی ہوتا رہا اور ابلتے خون سے نیلی نہر
بھی لال ہوتی رہی وہ شان سے گرا -"
اور دھنک دیوانگی سے ارمان کے سینے پہ
جھکی زور زور چیخے جارہی تھی- " خدا کے لئے مت مارو اسے وہ بےقصور ہے ،
بیگناہ ہے ، ہٹ جاؤ ورنہ خدا کا قہر نازل ہوگا اور تم سب جہنم رسید ہوجاؤگے
"- دھنک ہسٹریائی انداز میں چینخے
جارہی تھی اور ارمان آنکھیں پھاڑے اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا اسکی سمجھ نہیں
آرہا تھا کے کیا کرے ارمان نے تیز آواز میں کہا "پاگل ہوگئی ہو کیا دھنک ،
آخر ہوا کیا ہے ؟-
مگر
وہ کب سننے والی تھی وہ چینختی رہی- " آسمان والا تم پر عذاب نازل کریگا . مت لو جان
ایک نہتے سپاہی کی یہ بزدلی ہے .. ان وادیوں کو یہ ہولناک منظر نہیں دکھاؤ درندوں
ورنہ میں تم سبکی لاشوں پر بیٹھ کر شادیانے گاونگی ، ایک ایک کا سر دھڑ سے الگ کردونگی " – یہ
کہہ کر دھنک نے نیچے سے ایک ڈنڈی اٹھائی اور ارمان پر پل پڑی وہ ارے ارے کرتا رہ
گیا اور دھنک اس پر وار کرتی رہی اسکی آنکھوں میں جنوں تھا سانس بری طرح پھول رہا
تھا.ارمان نے جلدی سے دھنک کے بازو پکڑے اور زور سے اسے جھٹکا دیا - " دھنک
ہوش میں آؤ "- ارمان نے چینخ کر کہا اور دھنک خاموش ہوگئی اور حیرت سے چاروں طرف
دیکھنے لگی-
"دماغ
چل گیا ہے تمہارا "- ارمان نے سانس بحال کرتے ہوے کہا
"
وہ . . و و وہ لوگ مار رہے ہیں تمہیں بھاگ جاؤ یمنی باشندے "- دھنک نے کانپتے ہوۓ کہا
"کون
لوگ ؟ اوہ .... تم نے میری تحریر پڑھ لی ، تھکا مارا ظالم.. اور میں یمنی باشندہ
نہیں ہوں " – ارمان نے ہانپتے ہوۓ کہا مگر دھنک خاموش رہی اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی
اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے
"تم
کب آئی اور مجھے جگایا کیوں نہیں "- ارمان نے کچھ دیر کی خاموشی کے ساتھ کہا
"کافی
دیر ہوگئی تم سو رہے تھے میں نے سوچا جب تک تم سو رہے ہوتب تک میں تمہاری تحریر
پڑلوں "- دھنک نے ہچکیوں سے روتے ہوے کہا
"
وہ تو ٹھیک ہے مگر مجھے کیوں مارا .. اور تم تو ناراض تھیں
مجھ سے دو دن بعد مجھے پیٹنے آئی ہو " ارمان نے کسی بڑھیا کے سے جلے کٹے
لہجے میں کہا
"
ذلیل ہو تم"- دھنک کی ہچکیاں جاری تھیں
"
اور کمینہ ؟ " – ارمان نے پھر چھڑا
"
تم نے ایسی تحریر کیوں لکھی .. بولو ... اور کیوں مارا یمنی باشندے کو ..بولو
"- دھنک نے آنسوں خشک کرتے ہوے معصومیت سے پوچھا
"
یونہی .. زندہ رہتا تو سردار ضرغام کی غلامی کرنی پڑھتی اور یہ مجھے گنوارہ نہ
ہوتا اسلئے اسکا مرجانا بہتر تھا "-
ارمان نے لاپرواہی سے کہا
" میرا مطلب ہے کہ وہ شہزادی کو لے جاتا
ایک حسین دنیا میں تو کتنا اچھا ہوتا "- دھنک نے تیز لہجے میں کہا
"مگر سردار ضرغام کی فوج بہت بڑی تھی وہ
تنہا اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا .. اسکے لئے اسکو مراکش جانا پڑھتا اور شمال
افریقہ کے لشکر میں شامل ہونا پڑھتا اور طارق بن زیاد کے ساتھ کشتی میں سوار ہوکے
آنا پڑھتا اس میں کافی وقت لگ جاتا اور واپسی کی ساری کشتیاں بھی جل چکی ہوتیں تب
تک شہزادی بھی بوڑھی ہوجاتی اور بوڑھی کے ساتھ شہزادی کا لفظ کچھ جچتا نہیں .. آؤں
ہوں " – ارمان نے برا سا منہ بنا کر کہا
"کیا
پاگل ہوگۓ ہو .. کیا بےتکا بولے جارہے ہو .. طارق بن زیاد کہاں سے آگۓ .. میرے
کہنے کا مطلب تھا وہ چھپ چھپا کر شہزادی کو نکال لے جاتا "- دھنک نے غصّے سے کہا
"لیکن
ضرغام کی بیٹی بھاگ جاتی یہ ضرغام کبھی برداشت نہیں کرتا اور قتل و غارت کا بازار
گرم کرتا "- ارمان نے اکڑکر کہا اور دھنک نے ایک اور ڈنڈی کھینچ ماری اور
ارمان کی سی نکل گئی- "سیدھی طرح بات کرو ورنہ کھال کھینچ لونگی "- دھنک
نے فیصلہ کن لہجے میں کہا
"مگر
ضرغام "- ارمان نے کہا اور دھنک بات
کاٹ کر بولی " جہنم میں گیا ضرغام ، اس درندے کی کیوں پڑی ہے تمیں ، پتھر دل
آدمی معصوم شہزادی کی خواہشوں پر چرا پھیرا ہے تمنے "- دھنک نے غصّے سے کہا
"اچھا
بابا جو تم بہتر سمجھو وہی اخذ کرلو .. میں ہار گیا " ارمان نے ہاتھ جوڑ کر
کہا
"ہاں
بس .. جو میں کہونگی بس وہی ہوگا ... اچھا ایک بات بتاؤ تم نے شہزادی کا کردار کسے
اخذ کرکے لکھا ہے "- دھنک ارمان کی آنکھوں میں دیکھ کر دلاویز انداز میں
مسکرائی
"
تمیں سوچ کر"- ارمان نے بھی مسکرا کر کہا
"جی
نہیں .. تم جھوٹ کہتے ہو"- دھنک کی مسرت قابل دید تھی
"اچھا
تمیں سوچ کر نہیں لکھا – بس خوش "- ارمان نے شرارت سے کہا
"کیا
ہے جی .. وہ میں ہی ہوں "- دھنک نے کہا ہی تھا کے
ایک دم ٹھٹک گئی اور چاروں طرف دیکھا پھر آسمان پر دیکھا اور جلدی سے اٹھتے ہوے
بولی " چلو ارمان ، اب ہم گھر چلیںگے "-
"کیوں
کیا ہوا .. "- ارمان نے جلدی سے پوچھا
"بس
کچھ نہیں چلو تمہیں میری قسم کچھ نہیں پوچھنا "-دھنک نے پریشانی کے عالم میں
کہا مگر ارمان کی آنکھوں میں احتجاج تھا لیکن وہ چپ چاپ اٹھا اور دونوں تیز قدم
اٹھاتے ہوۓ اس ویرانے نکل گئے جہاں آج نیلی چاندنی سے کونا کونا جگمگا رہا تھا ہر
طرف چمبیلی کے پھول ایسے چمک رہے تھے جیسے موتی......!
ختم
شد
سید فیضان حسن
No comments:
Post a Comment